Page Nav

Grid

GRID_STYLE
FALSE

میرے نبی ﷺ کے اخلاق

میرے نبی ﷺ کے اخلاق میرے نبی ﷺ کے اخلاق (میرے نبی ﷺ کے اخلاق) ایک مشرک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ھوا اور بڑی بدتمیزی سے بولا یا محمد (صل...

میرے نبی ﷺ کے اخلاق

my-beloved-Prophet

میرے نبی ﷺ کے اخلاق

(میرے نبی ﷺ کے اخلاق)

ایک مشرک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ھوا
اور بڑی بدتمیزی سے بولا
یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) !!!!
آپ ﷺ بہت نرم مزاج اور خندہ رو تھے 
آپ ﷺ نے اسکی طرف دیکھا اور فرمایا
جی بولئیے 
اس نے کہا 
مجھے تیری 3 باتیں سمجھ نہیں آتیں
1،،،،تو کہتا ھے کہ سارا عرب میرا کلمہ پڑھے گا،
2،،، توکہتا ھے کہ قیصر و کسری جیسی عظیم سلطنت فتح ھونگی ،،،یہاں تو کھانے کو روٹی نہیں
3،،، تو کہتا ھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جائیں گے یہ کیسے ممکن ھے
آپ ﷺ نے اسکی باتیں سنیں اور مسکراکر بولے
امید ھے کہ تیری زندگی لمبی ھوگی( رسول اللہ ﷺ کی امید دراصل یقین ھوتا تھا
یقیناؐ سارا عرب میرا کلمہ پڑھے گا 
یقیناؐقیصر و کسری فتح ھونگے
تو دیکھے گا 
اور 
یقیناؐ بروز قیامت میں تیرا ہاتھ پکڑ کر بولوں گا 
کہ
کیا یہ سچ نہیں ؟
وہ بولا
میں نہیں مانتا
اور چلا گیا
جب مکہ فتح ھوا تو لوگوں نے اس سے کہا کہ ایک بات تو ھوگئی؟ مگر اس نے  کلمہ نہیں پڑھا
جب حضرت عمر کا دور خلافت آیا اور ایران فتح ھوا 
تو اس زمانے میں یہ شخص مزدوری کر رہا تھا،،،اسی وقت اپنا اوزار اٹھا کر مکہ چل پڑا
اس نے کلمہ پڑھ لیا
یہ شخص بے حد مسکین اور غریب تھا جب بھی یہ شخص مسجد میں آتا
امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالہ عنہ اسکے احترام میں کھڑے ھوجاتے
لوگوں نے کہا کہ آپ ایسے معمولی شخص کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں 
تب
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا 
کہ 
جب یہ پہلی مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا تھا میں اس مجلس میں موجود تھا
آپ ﷺ نے اسکا ہاتھ پکڑ کر فرمایا تھا 
کہ میدان محشر میں میں تیرا ہاتھ پکڑ کر پوچھوں گا کہ 
کیا یہ سچ نہیں ھے
میرے ماں باپ میرے نبی ﷺ پر قربان
جسکا آپ ﷺ قیامت کے دن ہاتھ پکڑ لیں اور اتنا قریب ھو ، وہ جنّتی ہی ھوسکتا ھے
یہ کہ کر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بے اختیا رو دئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ اکبر
(صحیح بخاری ،،،صحیح مسلم )
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
text


Free Islamic Apps


Free Learning Apps

TAGS: #DroidReaders.com HERE #iAhmedSheraz

No comments

Contact form

Name

Email *

Message *