Page Nav

Grid

GRID_STYLE
FALSE

بادشاہ کے سامنے بچے کی حکیمانہ گفتگو

بادشاہ کے سامنے بچے کی حکیمانہ گفتگو بادشاہ کے سامنے بچے کی حکیمانہ گفتگو حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ جب کوئی دعا مانگتے اور...

بادشاہ کے سامنے بچے کی حکیمانہ گفتگو

Ye Ibrat ki ja hai tamasha nahi hai

بادشاہ کے سامنے بچے کی حکیمانہ گفتگو

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ جب کوئی دعا مانگتے اور آنکھ سے کوئی آنسو آتا تو حضرت ان آنسوؤں کو اپنے چہرے پر مل لیا کرتے ۔
ایک مرتبہ ایک طالب علم نے دیکھ لیا۔ اس نے کہا ،حضرت! آپ کا یہ عمل کس بنا پر ہے؟‘‘
 فرمایا: میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان آنسوؤں کی برکت سے میرے چہرے کو جہنم کی آگ سے محفوظ فرمائیں گے۔“ 
وہ بھی آخر طالب علم تھا، کہنے لگا:’’کسی کا چہرہ بچ بھی گیا اور باقی جسم کے اعضاء نہ بچے تو پھر کیا فائدہ؟‘‘

📝 اس پر حضرت اقدس رحمہ اللہ نے ایک حکایت بیان فرمائی۔ 
بادشاہ اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ کے وقت میں ایک وزیر  فوت ہوا وزیر کا ایک بیٹا چھوٹی عمر کا تھا مگر بہت سمجھ دار تھا، بادشاہ نے اس بچے کو دل لگی کی خاطر بلایا،
 جب وہ بچہ حاضر ہوا تو اس وقت اورنگزیب عالمگیر رحمہ اللہ تالاب کے کنارے بیٹھے تھے جو اپنے محل میں بنوایا تھا،۔
وہ بچہ قریب ہوا ،سلام کیا ، جب اس نے مصافحہ کیا تو بادشاہ نے اس کی انگلیاں مضبوطی سے پکڑ لیں اور بچے سے کہا:
میں تمہیں کھینچ کر پانی میں نہ ڈال دوں؟‘‘
وہ بچہ مسکرا پڑا،۔
بادشاہ اورنگزیب بڑے حیران ہوۓ کہ بچے کو تو گھبرانا چاہیے تھا اور سبھی کہتے ہیں کہ بچہ سمجھ دار ہے،
 چنانچہ آپ نے پوچھا: تو کیوں ہنس رہا ہے؟‘‘ 
وہ بچہ کہنے لگا: ’’ بادشاہ سلامت! میرے ہاتھ کی چند انگلیاں آپ کے ہاتھوں میں ہیں، بھلا مجھے ڈوبنے کا کیا ڈر ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے کھینچ کر اس پانی میں ڈبو دیں گے" ۔

🔖یہ حکایت سنا کر حضرت اقدس تھانوی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر اس بچے کو بادشاہ کی انگلیاں پکڑنے پر اتنا اعتماد ہے تو کیا اللہ کی رحمت پر ہمیں اتنا بھی اعتماد نہ ہو کہ اگر وہ چہرہ جہنم کی آگ سے بچائیں گے تو پورے جسم کو بھی جہنم کی آگ سے آزاد فرما دیں گے"۔
🔖ہر دینے والا اپنی حیثیت کے مطابق دیتا ہے۔ بادشاہوں کے عطایا بادشاہوں کی شان کے مطابق ہوتے ہیں۔ ہم بھی اللہ رب العزت سے بہترین حسن ظن رکھیں گے تو وہ اپنی شان کے مطابق معاملہ فرمائیں گے۔
🔖باپ اپنے چھوٹے بچے کو تھوڑا سا دور کھڑا کر کے کہتا ہے: بیٹا میری طرف آؤ۔“ وہ بچہ بہت کوشش کرتا ہے مگر وہ اپنی کوشش میں ناکام ہو جاتا ہے، لیکن وہ بچہ اپنے باپ پر اعتماد کرتے ہوۓ کوشش جاری رکھتا ہے۔ پھر باپ کی محبت جوش میں آتی ہے تو باپ خود جا کر بچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
🔖اسی طرح ہم بھی اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے کوشش جاری رکھیں، ہماری کوشش کمزور بھی ہوئی تو ماں باپ سے ستر گنا زیادہ محبت کرنے والا شہنشاہ ہمیں ضرور اپنی محبت عطا فرما دے گا، جب ہمیں اللہ تعالی کی محبت نصیب ہوگئی تو ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں گے۔
The child's wise speech before the king
Hazrat Maulana Muhammad Ashraf Ali Thanwi (may Allah have mercy on him) used to get these tears on his face whenever he prayed and any tears came from his eyes.
Once a student noticed. He said, Hazrat! What is the basis of your action? "
 He said: I hope that Allah Almighty will protect my face from the fire of Hell with the blessing of these tears.
He was also a student after all, he said: "If someone's face is saved and the rest of the body parts are not saved, then what is the use?"

Hazrat Aqdas (may Allah have mercy on him) narrated a story on this.
In the time of King Aurangzeb Alamgir (may Allah have mercy on him) a minister died. The son of a minister was young but very intelligent. The king called this child for fun.
 When the child arrived, Aurangzeb was sitting by the side of the pond, which he had built in his palace.
The child approached, greeted, and when he shook hands, the king took hold of his fingers and said to the child:
Shall I not drag you and throw you into the water? ”
The child smiled.
King Aurangzeb was astonished that the child should have been frightened and everyone said that the child is sensible.
 So you asked, "Why are you laughing?"
The child began to say: "Peace, O king!" A few fingers of my hand are in your hands, what am I afraid of drowning? How can you drag me in front of your eyes and drown me in this water? "

* After narrating this story, Hazrat Aqdas Thanawi (may Allah have mercy on him) said: If this child has so much confidence in holding the fingers of the king, then should we not have so much faith in the mercy of Allah that if he saves his face from the fire of Hell Will also be freed from the fire of Hell. "
* Every giver gives according to his status. The gifts of kings are according to the glory of kings. We too will have the best opinion from Allah, the Lord of Glory, so He will deal according to His glory.
* The father stands his little child a little farther away and says: Son, come to me. ”The child tries hard but fails, but the child continues to try, trusting his father. ۔ Then the father's love is aroused, then the father himself goes and embraces the child.
In the same way, if we continue to strive to gain the pleasure of our Lord, even if our efforts are weak, then the emperor who loves us seventy times more than our parents will surely give us his love, when we have the love of God Then we will be successful in this world and in the Hereafter.

Free Islamic Apps


Free Learning Apps

TAGS: #DroidReaders.com Jaga Ji Lagane Ki dunya Nahi Hai Amjad Sabri, Jaga Jee Lagane ki Dunya nahi hai, ye ibrat ki jaa hai tamasha nahi hai mp3 download, ye ibrat ki jaa hai tamasha nahi hai lyrics, jagah ji lagane ki duniya nahi hai lyrics urdu, jaga ji lagane ki dunya nahi hai nazam, jagah ji lagane ki duniya nahi hai hindi lyrics, jagah ji lagane ki duniya nahi hai rekhta #iAhmedSheraz

No comments

Contact form

Name

Email *

Message *