Page Nav

Grid

GRID_STYLE
FALSE

اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا

اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا  سبق اموز تحاریر - . #اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا !!  میں بہت تنگ تھی اس انسان سے، ...

اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا

say no to divorce

اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا

 سبق اموز تحاریر - . #اےعورت طلاق سےپہلےبیدارہوجا !!
 میں بہت تنگ تھی اس انسان سے، اپنی قمست پہ رویا کرتی تھی ہر وقت خود کو اذیت دیتے رہنا، میرے سینے میں ایک آگ جلا کرتی تھی، بھلا میرے ساتھ ہی کیوں آخر یہ سب ہوا . . ؟؟ وہ نہ کوئی کام کرتا تھا نہ کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نبھاتا تھا، میں اس سے بیزار ہو چکی تھی، کہنے کو وہ میرا شوہر تھا، لیکن بس باتوں کی حد تک، سارا دن بازار میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا رہتا، کبھی تاش کھیل رہا ہوتا تو کبھی گپ شپ لگاتا رہتا..۔۔ میں اسے جب بھی کوئی کام کرنے کا کہتی تو بس اتنا کہتا تم کو کھانے کے لئے مل رہا ہے نا پھر کیا تکلیف ہے تم کو ؟ میں اسے سمجھاتی زندگی میں اور بھی بہت سی ضروریات ہیں، صرف کھانا پینا ہی نہیں، ہمارے اب دو بچے ہو چکے ہیں، یہ کل کو سکول بھی جائیں گے، ان کے اخراجات ہوں گے، کون کرے گا پورے ۔۔۔۔؟ وہ مسکرانے لگتا، وقت آئے گا دیکھا جائے گا، تم ابھی سے فکر نہ کرو، میں اپنی دوستوں کو دیکھتی تھی، ان کے شوہر نئی موٹر سائکل کبھی نیا موبائل، کبھی باہر ڈنر کے لئے جا رہے ہوتے تو کبھی گھر میں کوئی پارٹی کر لیتے، اور ایک میں تھی دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے مل رہی تھی، کبھی جو کچھ پیسے مانگ لو تو رونا دھونا شروع ہو جاتا، میں بہت تنگ تھی، دل چاہتا تھا بچوں کو لے کر خود کشی کر لوں، لیکن کیسے کر سکتی تھی، بچوں کی طرف دیکھتی خاموش ہو جاتی، 

Premium Android APK MODs
Download Free Android App


میں اس سے دور ہونے لگی، دل چاہتا تھا اس سے کہیں دور چلی جاوں ۔ ۔ جانتے ہو کیوں۔۔۔۔۔؟
 وہ خود کو سجا سنوار کر بھی نہیں رکھتا تھا، اس سے سگریٹ نسوار کی بدبو سی آتی تھی، اور مجھے اس بدبو سے نفرت ہونے لگی تھی، میں اسے سب چھوڑنے کا کہتی تو میری بات کو جھٹلا دیتا، وہ گھر آتا مجھ سے کھانا مانگتا میں صاف انکار کر دیتی کھانا نہیں بنایا، تھوڑا سا بناتی، بچوں کو اور خود کھا لیتی، وہ شاید جانتا تھا میں یہ سب جان بوجھ کر کرتی ہوں، میرے پاس بیٹھنے کی کوشش کرتا اس سے جھگڑنے لگتی، اسے طعنے دیتی، اسے بے عزت کرتی، وہ میری طرف دیکھتا، پھر گالی دے کر کہتا بکواس کرتی رہو، تمہاری عادت ہو چکی یے۔ جب وہ چلا جاتا میں رونے لگتی، اللہ سے ہزاروں شکوے کرتی، آخر میں ہی کیوں اس جہنم کی حقدار ٹھہری، میں تو کوئی گناہ بھی نہیں کیا، مجھے کبھی امی کے گھر جانا ہوتا تو اس سے پیسے مانگتی ہزاروں باتیں سناتا،پھر آخر ہزار دو ہزار نکال کر مجھے دیتا اور کہتا بہت فضول خرچ ہو گئی ہو تم۔۔۔ جب بھی امی کے گھر جانا ہوتا لڑتے جھگڑتے ہی گئی وہاں امی بہن بھابھی سب کہتے پارلر جایا کرو اپنا خیال رکھا کرو، دیکھو رنگ کتنا پیلا پڑ گیا یے۔۔ میں چپ ہو جاتی، آخر کیا بتاتی میرے نصیبوں کو آگ لگانے والا میرا شوہر ہی ہے جو میری زندگی کو جہنم بنانے ہوئے یے، بڑی بہن کا شوہر دبئی جاب کرتا تھا وہ اپنی بیوی کے لئے ایپل والا موبائل لے کر آیا، آپی مجھے دکھا رہی تھی دیکھو شہناز لاکھ روپے کا موبائل گفٹ کیا ہے تیرے جیجو نے، میں حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی، ایک آنسو پلک کو نم کر گیا ۔۔۔۔
 کاش!!!!!! کبھی مجھ پہ بھی ایسے قمست مہربان ہوتی، کاش اللہ نے میرے بھی نصیب ایسے لکھے ہوتے، بچے اب بڑے ہو رہے تھے، ایک دن بچوں کی وجہ سے میری جھٹانی اور دیورانی سے جھگڑا ہو گیا، جھٹانی نے کافی طعنے دیئے، تیرے بچے میرے گھر سے دو وقت کھانا کھاتے ہیں، یہاں رہتے ہیں اتنے غیرت مند ہو تو ان کو کھلاو نا، میں بہت روئی تھی میرا شوہر تو ہے ہی بےغیرت جب اکبر گھر آیا میں نے اسے بتایا آج گھر میں اتنا تماشہ ہوا یے، انہوں نے طعنے دیئے ہیں، اور تم بے غیرت بن کر گھومتے رہو بس، وہ بھائی کے گھر گیا، وہاں سب کے ساتھ جھگڑنے لگا، میرے بچوں کو گالیاں دینے والے تم کون ہوتے ہو، بات جب بڑھی تو میرے شوہر نے ان سے کہا مجھے الگ کر دو بس گھر میں دیوار کھینچ دی گئی، بچوں کو گود میں لے کر کہنے لگا، اب ان چاچو لوگوں کے گھر نہیں جانا، بھوک لگے تو ماما سے کہنا کھانےکا، گالیاں دینے لگا، میرے بچوں کو ڈانٹتے ہیں، میں تلخ لہجے میں بولی، اب تو کچھ شرم کر لو، اب تو کچھ کام دھندا کر لو۔۔۔۔ وہ بولا __ کیا تم ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہو کبھی پیار سے بات کر لیا کرو، جب دیکھو مجھے طعنے دیتی رہتی ہو، تم کو سب کچھ ملتا تو یے نا، پھر کیوں تماشہ کرتی ہو؟ میں نے چلا کر کہا، سب کے گھر میں نئی موٹر بائیک ہے، اور ہمارے پاس پرانی سی ٹوٹی ہوئی یہ میرا موبائل دیکھ رہے ہو، 5 منٹ بھی اس کی بیٹری نہیں رہتی، بچوں کی ہزاروں ضروریات ہیں، تم کیوں نہیں سمجھتے ۔۔؟ میں پاگل ہو جاؤں گی، میری شکل دیکھو میں بھکارن بن گئی ہوں، تھک گئی ہوں میں ۔۔۔۔ میرے پاس بیٹھ کر بولا توں ہر وقت جھگڑتی رہتی ہے کبھی تو پیار سے بات کر لیا کر میرے ساتھ ۔ میں نے اسے سائیڈ پہ دھکا دیا، وہ خاموش ہو گیا، میں تھک ہار گئی تھی، اب سوچ رہی تھی بس اس سے طلاق لے لوں گی اپنے ایک دو کزن سے بھی بات کی تھی جو وکیل تھے، انہوں نے تسلی دی، ہم ساتھ ہیں آپ کے طلاق لے لو اس کمینے سے میں سوچ رہی تھی آج گھر آئے گا تو بس اس کو بول دوں گی طلاق دے دو مجھے، میں انتظار کر رہی تھی وہ رات 10 بجے آیا، بچے سو رہے تھے، دونوں بچوں کے ماتھے پہ بوسہ کیا، ان کے ہاتھ چومے، پھر چارپائی پہ بیٹھ کر مجھے آواز دی ۔۔۔ شہناز مجھے روٹی دے میں کروٹ بدلے لیٹی رہی، اس نے پھر آواز دی شہناز سن لے اٹھ جا۔۔۔۔ میں چپ رہی وہ پاس آیا مجھے دیکھا میں نے آنکھیں بند کر لیں، مجھ پہ کمبل اوڑھ کر بولا تھک جاتی ہے سارا دن، کچن میں گیا کھانا دیکھنے لگا کچھ بھی نہیں تھا کھانے کے لئے، ایک پیالی میں نمک مرچ ڈال کر اس میں تھوڑا پانی ملا کر سوکھی روٹی کھانے لگا میں دیکھ رہی تھی، میں دل میں سوچنے لگی، کتا مرتا بھی نہیں ہے، کھانا کھا کر سو گیا، دوسرے دن صبح صبح ہم کسی بات پہ جھگڑنے لگے، میں نے اسے کہا بس مجھے طلاق دے دو میں اب برداشت نہیں کر سکتی، میں تھک گئی ہوں، غصے میں میں نے اس کے کپڑے بھی پھاڑ دیئے ، وہ طلاق کا نام سنتے ہی چپ ہو گیا، جلدی سے کپڑے چینج کرنے لگا،پھر بائیک لی باہر جانے لگا، میں نے چلا کر کہا اللہ کرے توں مر جائے، میری جان تو چھوٹ جائے تم سے، وہ بائیک باہر کھڑی کر کے کمرے میں گیا، کسی کاپی پہ کچھ لکھا پھرچلا گیا، میں گالیاں دے رہی تھی، رو رو کر تھک گئی، میں اسے بدعا دے رہی تھی، میں نے ارادہ کر لیا بس اب اس انسان کے ساتھ نہیں رہنا، دو چار گھنٹے گزرے، اور میں میکے جانے لگی، بچوں کو ساتھ لیا، اتنے میں گلی میں ایک شور سا برپا ہوا، میں رو رہی تھی،
 ہمارے دروازے پہ دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا، پورا گاؤں چارپائی اٹھائے میرے دروازے کے سامنے کھڑا تھا، میں حیران تھی کیا ہوا ۔۔۔؟ اتنے میں ایک لڑکا فون پہ بات کر رہا تھا، یار اکبر کا ایکسیڈینٹ ہوا وہ مر گیا یے، یہ سنتے ہی جیسے مجھ پر قیامت آ گری، میں ساکت ہو گئی، چارپائی صحن میں رکھی گئی، سب لوگ قبر کھودنے کی بات کرنے لگے، کچھ جنازے کا ٹائم دیکھنے لگے، مسجد میں اعلان ہونے لگا، اکبر میرے سامنے چارپائی پہ لیٹا ہوا تھا، کون یقین کرے وہ مر چکا ہے، میں چیخنے چلانے لگی، اکبر اٹھ جا میں نہیں کچھ مانگتی مجھے کچھ نہیں چاہیئے، میں طلاق کی بات بھی نہیں کرتی، میں اس کے پاؤں چومنے لگی، اکبر اٹھ جا میری جان اٹھ جا، دیکھ، دیکھ میں کہیں نہیں جا رہی مجھے تیرے ساتھ ہی رہنا ہے، میں بھوکی پیاسی رہ لوں گی، مجھے یوں چھوڑ کر نہ جا، میں کھانا بنا کر لاتی ہوں، بھوک لگی ہے نا تم کو ۔۔۔؟؟ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی، اب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکا تھا، میں چیختی رہی لیکن وہ منوں مٹی تلے جا سویا، اس کے جانے کے بعد مجھے دنیا کے رنگ نظر آنے لگے،
 مجھے رشتے بدلتے دکھائی دینے لگے، پھر جو اپنے تھے وہ سب منہ موڑنے لگے، مجھ پہ دنیا نظریں کسنے لگی، بچے بابا ڈھونڈنے لگے، اب کون ان کا نیند میں آ کر ماتھا چومے گا؟؟ کون مجھے آواز دے گا، کون میرے تلخ لہجے برداشت کرے گا۔۔۔؟ مجھ سے مکان چھین لیا گیا، جو حصہ بنتا تھا وہ بھی نہ دیا، میں اکبر کے بعد در بدر ٹھوکریں کھانے لگی، اب بچے بھی کچھ فرمائش نہیں کرتے وہ جانتے ہیں بابا اب نہیں رہے، میرے سگے بھائی بھی منہ موڑ گئے، میں لوگوں کے گھروں میں نوکرانی بن کے کام کرنے لگی، ایک دن مجھے اس کی ڈائری ملی، جس پہ لکھا تھا، شہناز سے شادی کر کے بہت خوش ہوں، شہناز سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔ وہ پاگل ہے بلکل سمجھتی ہی نہیں جھگڑتی رہتی ہے، دیکھو آج اس نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔ ۔ وہ کہتی ہے مہنگا موبائل لا کر دو، اسے کیسے بتاؤں نہیں لا سکتا، آج میرے بچوں کو میرے بھائی نے گالی دی، میں بہت رویا ہوں میرے بچے میری جان ہیں ۔۔۔ شہناز کو بخار ہے وہ بیچاری میرے لئے کیا کچھ برداشت کر رہی ہے، اللہ نے چاہا ہمارے حالات بدل جائیں گے پھر شہناز کو دنیا کہ ہر خوشی دوں گا، اب وہ مجھے کھانا نہیں دیتی میں جانتا ہوں ناراض ہے مجھ سے، میں نے نمک مرچ سوکھی روٹی کھائی ہے،
 آج میری کمر میں اینٹ لگی یے، زخم بہت گہرا ہے، شہناز کو نہیں بتاؤں گا پریشان ہو جائے گی بیچاری، ڈاکٹر کہہ رہا 15 ٹانکے لگے ہیں، آج مجھے چوٹ بھی لگی ہے، کہہ رہی ہے طلاق دے دو، میں مر جاؤں گا اس کے بنا، ابھی غصے میں ٹھیک ہو جائے گی، میں ڈائری کو سینے لگا کر چیخ چیخ کر رونے لگی۔۔۔ ہمسفر تو ہمسفر ہوتا ہے نا، وہ جیسا بھی تھا میرا سایہ تھا، میری ڈھال تھا، اس کے بعد زمانے کی ٹھوکریں کھا کر سمجھی ہوں اس کے ساتھ میرے دونوں جہاں تھے ۔۔۔ تھک ہار کر گھر آتی ہوں، اب ٹوٹ گئی ہوں، میں بچوں کی خاطر زندہ ہوں بس ورنہ کب کی ختم ہو جاتی۔۔ میں خود کو اذیت دیتی ہوں، کیوں جھگڑتی تھی اس کے ساتھ، کیوں اس کو ستاتی تھی،
 کیوں میں لوگوں کو دیکھ کر بڑے خواب دیکھتی تھی، وہ میرے ساتھ ہوتا تو شہزادی سی زندگی گزار رہی ہوتی ۔۔ کیا میں بخشی جاؤں گی ۔۔۔؟؟ اللہ مجھے معاف کرے گا، میں مشکل وقت میں اس کا سہارا اس کی ہمت نہ بن سکی، میں مطلب پرست لالچی ہو گئی تھی، اب تو اکثر لوگ میری مدد کرتے ہوئے میرے جسم کی بات بھی کرتے ہیں ۔۔۔ سب عورتوں سے ہاتھ جوڑ اپیل کرتی ہوں کہ پیسہ ہمسفر کے سامنے خاک بھی نہیں ہے، لالچ اور بڑے بڑے خواب کی تمنا میں لوگوں کی نوکرانی نہ بن جانا، شوہر اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھلائے تو مسکرا کر سینے سے لگ جانا، خدا کی قسم زمانے کی لاکھ تلخیوں کو وہ تمہاری خاطر اپنے سینے پہ برداشت کرتا ہے، پلیز اگر کوئی بہن اپنے شوہر سے یوں بیزار ہے تو سمجھ جائے اس سے پہلے کے آنسو مقدر بن جائیں 

TAGS: #DroidReaders.com wake up woman free download wake up woman book pdf wake up woman movie i wake up everyday happy, healthy, wealthy song i wake up every day happy healthy, wealthy song wake up woman fernanda castillo i wake up everyday happy healthy wealthy song tiktok i wake up everyday happy, healthy, wealthy lyrics #iAhmedSheraz

No comments

Contact form

Name

Email *

Message *