FALSE

Page Nav

HIDE

Grid

GRID_STYLE

Slide Show

FALSE

کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم

کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم فکری ملکیت، جس میں کاپی رائ...

کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم

say no to copyright

کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک اور اس کے بارے میں شرعی حکم

فکری ملکیت، جس میں کاپی رائیٹ، پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک شامل ہیں، کی حفاظت کا نظریہ مغرب کے سرمایہ داری نظام معیشت کے زیر سایہ پیدا ہوا۔ صنعتی سرمایہ دار ممالک نے ۱۸۸۳ ء میں پیرس اور ۱۸۸۶ میں برن (Burne) میں فکری ملکیت کی حفاظت کا معاہدہ کیا۔ اس کے بعد بیس سے زائد معاہدے ہو چکے ہیں۔ پھر ان معاہدوں کی نگرانی اور سرپرستی کے لئے فکری ملکیت کی عالمی تنظیم ویپو (WIPO) کی بنیاد رکھی گئی۔ اس طرح ۱۹۹۵ء میں عالمی تجارتی تنظیم (WTO) نے فکری ملکیت کی حفاظت کو اختیار کیا اور ویپو (WIPO) اس کا ایک حصہ بن گئی۔ تجارت کی اس عالمی تنظیم نے یہ شرط رکھ دی کہ جو ممالک تجارت کے لئے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنا چاہیں ان کے لئے فکری ملکیت کی حفاظت کا التزام ضروری ہے۔ اس طرح ان ممالک کے لئے یہ بھی شرط رکھ دی گئی کہ وہ ایسے قوانین وضع کریں کہ جن کی رو سے وہ اپنے اپنے ممالک میں فکری ملکیت کی حفاظت کر سکیں۔

فکری ملکیت کے یہ قوانین، جن کو ان ممالک نے وضع کیا ہے ان کی رو سے ہر فرد کو اپنی ایجاد کردہ چیز کی حفاظت کا حق حاصل ہے۔ وہ اس چیز میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے اوراپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو اس چیز میں کسی قسم کے تصرف سے روک سکتا ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس چیز میں تصرف نہیں کر سکتا اور ریاست بھی اس حق کی حفاظت کرے گی۔ اس فرد کی زندگی میں یا اس کی موت کے دسیوں سال بعد بھی کوئی شخص اس حق میں دست درازی کرے تو ریاست اس کو سزا دے گی۔ ان قوانین کا اطلاق اُن کمپنیوں پر بھی ہوتا ہے جو کوئی نئی چیز بناتی ہیں۔

نئی چیز ایجاد کرنے کا مطلب وہ فکر یا علم ہے جس تک کسی شخص کی عقل رسائی حاصل کرتی ہے جو اس سے قبل کسی کے علم میں نہیں تھا۔ اس میں اہم ترین وہ نئے علوم ہیں جو صنعت کاری، سامان بنانے اور خدمات میں استعمال ہوتے ہیں، جس کو آج کے دور میں ”ٹیکنالوجی“ کا نام دیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سرمایہ داروں نے ان انفرادی علوم و فنون کو ایسے مال کی حیثیت دے دی جو ملکیت کے قابل ہو۔ چونکہ کسی شخض کے لئے ایک خاص کسوٹی کے موافق مالک یا اس کے ورثاء کی اجازت کے بغیر اس کو سیکھنا یا سکھانا جائز نہیں ہے، چنانچہ کوئی شخص ایسی کتاب، ڈسک یا کیسٹ خریدے جو فکری لحاظ سے محفوظ ہو تو اس کو صرف ایک خاص حد میں رہتے ہوئے اسی اصل نسخے جس کو اس نے خریدا ہے سے فائدہ اُٹھانے کا حق حاصل ہے۔ یعنی اس کو پڑھ اور سن سکتا ہے۔ فکری ملکیت کے قوانین کی رو سے اس شخص کے لئے جائز نہیں کہ وہ دوسرے طریقوں سے اس سے استفادہ کرے جیسے اس کی طباعت کرے یا بیچنے یا کرایہ پر دینے کے لئے اس کی نقول تیار کرے۔

اس مسئلے پر حکم شرعی سے پہلے بعض پہلووں سے اس کی حقیقت کا جائزہ لینا زیادہ مناسب رہے گا۔ میری کوشش ہو گی کہ مثالوں کے ذریعے اس کو واضح کروں۔ چند مثالیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:

۱)          آپ اس حقیقت کو تصور میں لائیں کہ ایک استاد لیکچر کے پیسے وصول کرنے کے باوجودکلاس میں طالب علموں سے کہے کہ جو کچھ آج میں نے آپ کو پڑھایا ہے، اس علم کو آپ آگے کسی کو منتقل نہیں کر سکتے۔ اور اگر آپ اس علم کو جب بھی آگے منتقل کریں گے تو اس کیلئے آپ مجھے رائلٹی ادا کریں گے۔

۲)         گھر کی ایک خاتون بازار سے کوئی سبزی مثلاً آلو خریدے، اور سبزی بھیجنے والا شرط لگائے کہ آپ ان آلووںکی بھجیا تو ضرور بنائیں مگر چپس بنانے کی اجازت نہیں۔

پہلی مثال پر غور کریں۔ اگر ایک استاد مندرجہ بالا مطالبہ کریں تو کوئی بھی اسے تسلیم نہیں کرے گا اور اسے منطق سے عاری اور فضول قرار دیا جائے گا۔ تو پھر آخر ایک شخص جوکتاب لکھے، اور پھر یہ شرط لگائے کہ آپ اس کتاب کی فوٹو کاپی یا طباعت نہیں کر سکتے، اس شرط کو کس بنیاد پر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اس کا مطالبہ کیوں مبنی بر عقل اور انصاف کے اصولوں کے مطابق گردانا جاتا ہے۔ استاد کی مثال اور مصنف کی مثال میں علم کی شکل (Finished Form) کے علاوہ کیا فرق ہے۔ آخر کیوں ایک مصنف کو یہ حق حاصل ہو کہ وہ جملہ حقوق محفوظ رکھ سکے۔ جبکہ خریدار کتاب کی قیمت ادا کر کے شرعی طور پر ملکیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہم ایک سبزی والے کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ ہمیں بتائیں کہ آلووں میں کیسے تصرف (استعمال) کریں، اس طرح ہم کیسے ایک مصنف کو یہ حق دیں کہ وہ ہمیں بتائیں کہ اس کتاب کو آپ پڑھیں ضرور، لیکن اس کی فوٹوکاپی یا طباعت نہیں کر سکتے۔ جبکہ اس کتاب کی قیمت ادا کرنے کے بعد ہم شرعی ملکیت کے حامل ہو جاتے ہے۔ تاہم اس کی شرعی دلائل پر تفصیلی بحث پیش ہے۔

حکم شرعی:

ہر انسان کے اندر تین جبلتیں موجود ہیں؛ جبلت بقا، جبلت نوع اور جبلت تدین۔ اسلام چونکہ انسان کی ضروریات اور جبلتوں کو منظم کرتا ہے اس لئے اسلام ان جبلتوں کے مظاہر کو بھی منظم کرتا ہے۔ جبلت بقا کا ایک مظہر انفرادی ملکیت ہے۔ اس جبلت کو پورا کرنے کے لئے مسلمانوں کو ہر اس چیز کا مالک ہونے کی ضمانت دی گئی ہے جو اس کی بقا اور شریفانہ زندگی کے واسطے ناگزیر ہو۔ چنانچہ اس کے لئے اکثر اعیان جیسے مکانات، جانوروں اور زمین سے حاصل ہونے والی اشیاء کی ملکیت کو مباح قرار دیا گیا ہے، جبکہ بعض اعیان کی ملکیت کو حرام قرار دیا گیا ہے جیسے خمر، خنزیر، نشہ آور اشیاء۔ اس طرح اس کو غور و فکر کرنے اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور دوسروں کو پڑھا کر اجرت لینے کو بھی مباح ٹھہرایا گیا ہے۔ ملکیت کے ایسے اسباب بھی اس طرح مہیا کئے گئے ہیں، جو مباح ہیں جیسا کہ تجارت، کرایہ اور وراثت جبکہ کچھ اسباب کو اس کے لئے حرام قرار دیا گیا ہے جیسا کہ سود، جوا اور اندازہ لگا کر بیچنا۔

اسلام میں انفرادی ملکیت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب حکم شرعی اس کو ثابت کرے۔ چونکہ اس کا فیصلہ ملکیت کے اسباب کی بنیاد پر ہوتا ہے جیسے تجارت یا ہبہ یا تحفہ وغیرہ کے ذریعے۔ اسلام نے ایک فرد کو اس کی ملکیت کے بارے میں اختیار دیا ہے کہ وہ احکام شرعیہ کے مطابق اس میں تصرف (استعمال) کرے اور اس سے فائدہ اُٹھائے۔ اسلام نے ریاست پر فرد کی ملکیت کی حفاظت کو فرض قرار دیا ہے اور جو شخص دوسروں کی ملکیت میں دست درازی کرے اس کے لئے سخت ترین سزائیں مقرر کی ہیں۔انفرادی ملکیت کی جدید اصطلاح کی دو قسمیں ہیں۔ ان میں سے ایک تو محسوس اور ملموس (جس کو چھوا جا سکتا ہے) ہے جیسے ٹریڈ مارک او رکتاب، جبکہ دوسری قسم محسوس لیکن غیر ملموس ہے جیسے علمی نظریہ یا سائنسدان کے دِماغ میں موجود کسی ایجاد کے بارے میں فکر۔ پس ملکیت اگر پہلی قسم سے ہو جیسا کہ مباح ٹریڈ مارک تو ایک فرد کے لئے اس کا مالک بننا، اس سے فائدہ اُٹھانا یا اس کو بیچنا جائز ہے۔ فرد کے اس حق کی حفاظت ریاست کے ذمہ ہے۔ ریاست اس فرد کو اس چیز میں تصرف کے قابل بنائے گی اور دوسروں کو اس پر دست اندازی سے روکے گی، کیونکہ ٹریڈ مارک شرعاً مباح تجارت کا ایک حصہ ہونے کی وجہ سے اسلام میں اس کی ایک مادی قیمت ہے۔ ٹریڈ مارک ایک ایجاد کردہ نشان ہوتا ہے جس کو تاجر یا کارخانہ اپنی مصنوعات پر لگاتا ہے تاکہ یہ مصنوعات دوسروں کی مصنوعات سے ممتاز ہوں، جس کی وجہ سے خریدار اور صارفین آسانی سے پہچان سکیں۔ ایک شخص کے لئے اپنی ٹریڈ مارک کو بیچنا جائز ہے، اگر وہ اس کو بیچ دے تو اس کی منفعت اور اس میں تصرف کا حق نئے مالک کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے منرل واٹر کا نامNestle نہیں رکھ سکتا جب تک وہ یہ نام مذکورہ کمپنی سے خرید نہ لے۔

اگر فکری ملکیت دوسری قسم کی ہو جیساکہ سائنسی نظریہ اور ایجاد کے بارے میں کوئی فکر، تو جب تک وہ شخص اس کو کسی ورق پر نہ لکھے یا کسی ڈسک یا کیسٹ میں اس کو محفوظ نہ کرے تب تک یہ اس شخص کی انفرادی ملکیت ہے۔ اگر اسلام میں اس چیز کی کوئی قیمت ہو تو اس شخص کے لئے اس کو بیچنا یا دوسروں کو سکھانا جائز ہے۔ لیکن جب کوئی دوسرا شخص، جو شرعی سبب سے اس کا مالک بن جائے، پہلے مالک کی اجازت کے بغیر احکام شرعیہ کے مطابق اس میں تصرف (استعمال) کر سکتا ہے۔ یہ حکم ہر اس شخص پر بھی لاگو ہوگا جو ایسی کتاب، ڈسک یا کیسٹ خریدے جس میں کوئی فکری، سائنسی، علمی یا ادبی مواد ہو۔ جس طرح اس شخص کے لئے اس کو پڑھنے یا اس میں موجود معلومات سے فائدہ اُٹھانے کا حق ہے بالکل اسی طرح اس کو نقل کرنے، اس کو بیچنے یا اسے کسی کو تحفے کے طور پر دینے کا حق بھی حاصل ہے۔ مگر اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اس علمی مواد کی نسبت اصل مالک کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف کرے، کیونکہ اس کی نسبت کسی اور کی طرف کرنا جھوٹ اور دھوکہ ہے اور یہ اسلام میں حرام ہے۔ لہٰذا فکری ملکیت کے حق کا احترام ایک معنوی حق ہے۔ یہ صرف اس طرح ہے کہ اس کی نسبت صاحب حق کی طرف کی جائے۔ اس کا ہرگز یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس کی اجازت کے بغیر اس چیز سے استفادہ کرنا ممنوع ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص کتاب یا CD خریدنے کے بعد اس کو ہر طرح سے استعمال میں لا سکتا ہے خواہ اس کی کاپیاں بنانا ہو یا اس کہ پڑھنا یا سننا۔ تاہم وہ جھوٹ کے ساتھ اس کے اندر موجود مواد کو اپنے نام سے منسوب نہیں کر سکتا کہ یہ اس کی تخلیق ہے۔

رہی بات ان شرائط کی جن کے لئے قوانین وضع کئے گئے ہیں، جن کی رو سے کتابوں کے مولفین، پروگرام پیش کرنے والے اور موجدین کو طباعت کے حقوق اور ایجاد کرنے کے لائسنس فکری ملکیت کی حفاظت کے نام سے مہیا کئے جاتے ہیں تو یہ شرائط غیرشرعی ہیں۔ ان کا التزام واجب نہیں چونکہ اسلام میں عقد بیع کا مقتضی ہے کہ جس طرحخریدنے والے کو ملکیت کا حق حاصل ہے بالکل اسی طرح اس کو اپنی اس ملکیت میں تصرف کا بھی حق حاصل ہے۔ چنانچہ عقد بیع کے مقتضی کے خلاف جو بھی شرط ہو خریدنے والا اس کا پابند نہیں، خواہ یہ شرائط ایک سو ہی کیوں نہ ہوں، عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ:

”بریرہؓ عائشہؓ کے پاس اس وقت آئی جب وہ مکاتب تھی جس کے مالکوں نے اوقیہ کے بدلے اس کی مکاتبت کی تھی۔ عائشہؓ نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک چاہیں تو میں یہ یک مشت ان کو دوں گی لیکن تمہاری والی میں ہوں گی۔ بریرہؓ اپنے مالکوں کے پاس آئی۔ ان کو بتایا تو اُنہوں نے انکار کیا اور یہ شرط لگائی کہ تمہارے والی ہم ہی ہونگے۔ عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم ایسا ہی کرو۔ عائشہؓ نے ایسا ہی کیا: آپ ﷺ لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے اُٹھے۔ اللہ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا: مردوں کو کیا ہوگیا کہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں۔ مزید فرمایا: ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہیں باطل ہے، کتاب اللہ ہی حق ہے اور اس کی شرائط ہی معتبر ہیں، ولایت اس کے لئے جس نے آزاد کی“

حدیث کے الفاظ ہی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ شرط جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہے اس کی پابندی جائز نہیں۔ جب تک فکری ملکیت کی حفاظت کی رو سے خریدی ہوئی چیز کے صرف عین سے فائدہ اُٹھانے اور اس کے علاوہ اس سے فائدہ نہ اُٹھانے کی شرائط ہیں تب تک یہ شرائط کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہیں کیونکہ یہ اس شرعی عقد بیع کے مقتضی کے خلاف ہیں جس کی رو سے خریدار اس چیز میں ہر قسم کا تصرف کر سکتا ہے۔ اس چیز کے عین سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے یعنی کسی بھی شرعی طریقے سے اس چیز سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے جیسا کہ اس چیز کو بیچ دے۔ ہبہ کرے، تجارت کرے وغیرہ، وہ شرائط جو حلال کو حرام کرتی ہیں باطل ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

”مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں مگر وہ شرط جو کسی حلال کو حرام یا کسی حرام کو حلال کر دے“

یہی وجہ ہے کہ طباعت کے حقوق، کاپی رائٹ یا انونشن لائسنس (Patents) کا محفوظ ہونا شرعاً جائز نہیں، بلکہ یہ مباح حقوق ہیں۔ چنانچہ ایک مفکر، سائنسدان یا کوئی پروگرامر اپنے علم کا اس وقت تک مالک ہے جب تک وہ علم ان کے پاس ہے اور انہوں نے کسی اور کو نہیں سکھایا، لیکن جب اس کا علم کسی دوسرے کو پڑھانے کے ذریعے، بیع یا کسی اور طریقے سے اس سے منتقل ہو جائے، تب یہ صرف اس کی ملکیت نہیں۔ اس نے جب بیچ دیا تو یہ اس کی ملکیت سے نکل گیا، جب وہ شرعی طریقے جیسے بیع وغیرہ سے دوسروں کی طرف منتقل ہوگیا تو وہ دوسروں کو اس میں تصرف سے نہیں روک سکتا۔

بعض فتووں میں ان احادیث کی بنیاد پر مختلف حکم اخذ کیا گیا ہے:

”مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں“، اس طرح یہ ارشاد کہ: ”کسی مسلمان کا مال اس کی رضامندی کے بغیر حلال نہیں“، اس طرح آپ ﷺ کا یہ فرمان کہ: جو ایک مباح چیز تک پہلے رسائی حاصل کرے تو وہی اس کا حقدار ہے“۔ اس فتویٰ میں جو غلطی ہوئی ہے وہ لفظ ”شروط“ کی عمومیت کی وجہ سے ہے۔ ا س میں تخصیص نہیں کی گئی ہے حالانکہ رسول ﷺ نے اس سے استثنیٰ کیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:” مگرو وہ شرط جو کسی حلال چیز کو حرام کردے“۔ دوسری دو حدیثوں کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ یہ حدیث کہ: ”کسی مسلمان کا مال حلال نہیں….“ دوسروں کے مال سے متعلق ہے، جبکہ مذکورہ ڈسک خریدار کی ملکیت بن چکا ہے۔ اس طرح یہ حدیث کہ: ”جو پہلے چیز تک رسائی حاصل کرے“، جبکہ مذکورہ ”کمپیوٹر ڈسک“ انفرادی ملکیت ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فکری ملکیت کی حفاظت کے قوانین استعمار کے اقتصادی اور ثقافتی اسالیب میں سے ایک اسلوب ہیں جن کو بڑے سرمایہ دار ممالک نے عالمی تجارتی تنظیم (W.T.O) کے ذریعے دوسرے ممالک اور اقوام پر مسلط کیا ہوا ہے۔ جب یہ بڑے ممالک ”ٹیکنالوجی“ یعنی صنعت، اشیاء کی پیداوار اور خدمات سے متعلقہ علوم پر قابض ہوگئے، تب اُنہوں نے ان علوم کی ذخیرہ اندوزی کے لئے اس قسم کے قوانین نافذ کئے جس سے یہ اقوام بدستور ان کے زیر اثر اور دست نگر رہیں اور یہ بڑے ممالک سرمایہ کاری اور گلوبلائرشن (Globalisation) کے نام سے چھوٹے ممالک کے وسائل اور دولت کو لوٹتے رہیں۔

ان قوانین کا مقصد ایک طرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو سائنسی علوم اور ان سے استفادہ کرنے سے دُور رکھا جائے اور دوسری طرف ان کی نشاة ثانیہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جائے۔ چین نے ٹیکنالوجی میں ترقی اس بنا پر کی کہ اس نے ان استعماری قوانین کو جوتے کی نوکھ پر رکھا، اور سائنسی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکانے کو برداشت نہیں کیا۔ آج بھارت جو ایڈز کی دوا 50 ڈالر میں تیار کر رہا ہے وہی دوائی امریکہ 1200 ڈالر میں فروخت کرتا ہے۔ اور اس نے انھیں قوانین کی مدد سے بھارت کو اس کی تیاری سے روک دیا ہوا ہے۔ کئی مسلمان ممالک آج بھی جدید ٹیکنالوجی کے حامل فائٹر جہاز، آبدوزیں، اور کمیونیکیشن سسٹم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انھیں قوانین کے باعث بنانے سے قاصر ہیں۔

ہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ مغرب نے مسلمانوں کی جن ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر اپنی بلڈنگ کھڑی کی ہے، انھوں نے مسلمانوں کو اس کے لئے ایک دھیلا ادا نہیں کیا۔ کیا آج تمام سافٹ وئیر جن کمپیوٹر لینگویجز سے بنائیں جاتے ہیں ان سب کی بنیاد 0 اور 1 نہیں؟ آج تک مغرب نے الخوارزمی کی اولاد کو 0 (زیرو) اورalgorithm کو استعمال کرنے کی کتنی رقم ادا کی ہے، جو کہ الخوارزمی کی ایجاد ہے؟ بوعلی سینا کی بائیولوجی آخر کتنی رائلٹی کی مستحق ٹھہری ہے؟ اجو حامد الغزالی، ابن رشد، البتانی، ثابت ابن قرّعہ، الخلیلی، البیرونی، الفرحانی، الجہاز، الکندی، جابر بن حیان، ابن الہیثم، الرازی، الزراوی وغیرہ جیسے سائنسدانوں کی اولاد میں سے کس کی اجازت سے ان کا علم استعمال کیا گیا؟ کیا مغرب اس سلسلے میں کوئی ثبوت پیش کرے گا؟

جہاں تک ایک مصنف یا موجد کو اس کی تخلیق کا مناسب معاوضہ ملنے کا تعلق ہے، ریاست خلافت اس کیلئے مناسب اقدامات کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی خلافت مصنفین کو سونے میں تول کر، تخلیقی کام کا بدلہ دیا کرتی تھی۔ اسی طرح دوسرے اقدامات کئے جا سکتے ہیں جو ان قابل لوگوں کو علم اور ریسرچ کی ترغیب دے۔ تاہم ایک مسلمان کی پہلی ترجیح یقینا اللہ کی رضا ہوتی ہے۔ آج یہ کاپی رائٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ مشہور انگریزی گیت نگار Alvis Presley جس کی موت کو 39 سال ہو گئے ہیں اس کے ریکارڈز کی رائلٹی آج بھی سالانہ 36 ملین ڈالرہے۔ اسی طرح بل گیٹ کی دولت 45% امریکیوں کی دولت سے زیادہ ہے۔ اور اس کی تین پارٹنروں کی دولت ملائی جائے تو وہ 41 قوموں کی مجموعی GDP سے زیادہ ہے۔ کیا وہ لوگ جنہوں نے Linux سسٹم بنایا اور اسے کاپی رائٹ نہیں کیا وہ ارب پتی نہیں؟ پس یہ دلیل کہ ان کا حق انھیں نہیں ملے گا، قابل توجہ نہیں۔

آخر میں یہ ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ہماری موجودہ حکومت نے استعمار کی چاکری میں Intellectual Property Organization)) کا آرڈیننس جاری کر کے اس کے لئے ایک ادارہ بنا دیا ہے۔ تاکہ عوام کو جو چند ایک اشیا مناسب قیمتوں پر مل رہیں ہیں وہ بھی مہنگے داموں ملے اور سائنسی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہو۔ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ ان قوانین کی پابندی نہ کریں اور ان کو ختم کر دیں، کیونکہ یہ قوانین اسلامی نہیں، ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ مستقبل کی خلافت بہرحال ان قوانین کو ہر گز قبول نہیں کرے گی۔

text


Free Islamic Apps


Free Learning Apps

TAGS: #DroidReaders.com HERE #iAhmedSheraz

No comments

Thoughts are Welcome!

Contact form

Name

Email *

Message *